نومبر کی ایک ٹھنڈی شام تھی۔ سمال ہیتھ کی ایک گلی میں، تین بچوں کے باپ راشد احمد نے بجلی کا بل کھولا اور ان کے ہاتھ ٹھٹھر گئے — بل پچھلے سال سے تقریباً دُگنا تھا۔ ان کی اہلیہ شبانہ نے بچوں کو موٹے کپڑے پہنائے اور ہیٹر کا ٹائمر کم کر دیا، لیکن فکر بڑھتی جا رہی تھی: ٹیکسی کی آمدنی کم، کرایہ زیادہ، اور سردیاں ابھی شروع ہوئی تھیں۔

راشد کو معلوم تھا کہ حکومت کچھ نہ کچھ مدد دیتی ہے — یونیورسل کریڈٹ کا نام انہوں نے سنا تھا — لیکن انگریزی فارم، لمبی قطاریں اور یہ ڈر کہ کہیں غلطی نہ ہو جائے، انہیں ہر بار روک دیتا تھا۔ یہ کہانی اسی خاندان کی ہے، اور ان تین راستوں کی جن سے انہوں نے اسی سردیوں میں مدد حاصل کی۔ (نوٹ: نام اور کردار مثالی ہیں، لیکن تمام اسکیمیں، فون نمبرز، ویب سائٹس اور آخری تاریخیں حقیقی ہیں۔) اگر آپ برمنگھم میں رہنے والے اردو بولنے والے خاندان ہیں، تو یہ راستے آپ کے لیے بھی کھلے ہیں۔

وہ مشورہ جس نے سب کچھ بدل دیا

جمعے کی نماز کے بعد راشد نے اپنے پرانے دوست نعیم سے ذکر کیا کہ بجلی کے بل نے کمر توڑ دی ہے۔ نعیم نے کہا: تم ابھی تک سٹیزنز ایڈوائز نہیں گئے؟ وہ مفت مشورہ دیتے ہیں اور تمہاری بات سمجھنے والے لوگ بھی وہاں موجود ہیں۔ نعیم نے ایک نمبر لکھ کر دیا: 0808 278 7990 — سٹیزنز ایڈوائز برمنگھم کا مفت نمبر، پیر سے جمعہ صبح ساڑھے نو سے شام ساڑھے چار تک۔

راشد نے اگلے ہی دن کال کی۔ فون پر موجود مشیر نے آہستہ آہستہ، سادہ الفاظ میں بات کی۔ پہلا سوال یہ تھا: کیا آپ یونیورسل کریڈٹ لیتے ہیں؟ راشد لیتے تو تھے، لیکن مشیر نے ان کا حساب دوبارہ لگایا تو پتا چلا کہ ان کے تین بچوں میں سے سب سے چھوٹے بچے کا حصہ ان کے کلیم میں شامل ہی نہیں تھا — ایک ایسی کمی جس کی وجہ سے وہ مہینوں سے کم رقم لے رہے تھے۔ ایک فون کال نے ان کی ماہانہ امداد بڑھا دی۔

وارم ہوم ڈسکاؤنٹ: £150 جو خود آتا ہے — اگر آپ نظر رکھیں

دوسری اہم بات جو مشیر نے بتائی وہ وارم ہوم ڈسکاؤنٹ تھا — اس سردیوں میں بجلی کے بل پر £150 کی رعایت۔ شرطیں تین تھیں: 23 اگست 2026 کو آپ کا بجلی فراہم کرنے والا اسکیم میں شامل ہو، آپ یا آپ کے شریکِ حیات کو یونیورسل کریڈٹ جیسا بینفٹ ملتا ہو، اور بل پر آپ دونوں میں سے کسی ایک کا نام ہو۔ زیادہ تر اہل گھرانوں کو یہ رعایت خودکار طور پر مل جاتی ہے — اکتوبر سے دسمبر کے درمیان ایک تصدیقی خط آتا ہے۔

راشد کے گھر کوئی خط نہیں آیا تھا۔ مشیر نے کہا: گھبرائیں نہیں — اگر جنوری 2027 کے وسط تک خط نہ آئے تو ہیلپ لائن 0800 030 9322 پر 26 فروری 2027 سے پہلے کال کریں۔ راشد نے جنوری میں کال کی، ان کی اہلیت کی تصدیق ہوئی، اور £150 ان کے بجلی کے بل میں جمع کر دیا گیا — نقد رقم نہیں، بل میں رعایت کی صورت میں۔ یہ پیسے ہمیں ہاتھ میں نہیں ملے، لیکن بل آدھا ہو گیا، شبانہ نے مسکرا کر کہا۔

برمنگھم سٹی کونسل کا کرائسز اینڈ ریزیلینس فنڈ

تیسرا راستہ سب سے مقامی تھا: برمنگھم سٹی کونسل کا کرائسز اینڈ ریزیلینس فنڈ — 2026 سے 2027 کے لیے کھلا ہوا فنڈ، جو پہلے ہاؤس ہولڈ سپورٹ فنڈ کہلاتا تھا۔ یہ رقم محکمہ برائے محنت و پنشن کونسلوں کو دیتا ہے تاکہ ضرورت مند گھرانوں کی مدد کی جائے: کھانا، بجلی اور گیس کے بل، پانی کے بل، اور گھر کا ضروری سامان — یہاں تک کہ خراب بوائلر کی مرمت بھی اس میں شامل ہو سکتی ہے۔

سب سے اچھی بات: اس فنڈ کے لیے بینفٹ لینا شرط نہیں۔ کونسل خود فیصلہ کرتی ہے کہ کون سب سے زیادہ ضرورت مند ہے — بچوں والے خاندان، بزرگ، معذور افراد، اور وہ لوگ جنہیں اچانک مالی دھچکا لگا ہو۔ راشد نے birmingham.gov.uk پر آن لائن درخواست دی: پتہ کا ثبوت، بینک اسٹیٹمنٹ اور بجلی کے بل جمع کروائے۔ چند ہفتوں بعد ان کے توانائی کے بقایاجات کے لیے ایک گرانٹ منظور ہوئی — یہ قرض نہیں تھا، واپس نہیں کرنا تھا۔

آپ کے لیے عملی چیک لسٹ: آج ہی شروع کریں

اگر آپ کی کہانی راشد سے ملتی جلتی ہے تو یہ پانچ قدم اٹھائیں: پہلا، سٹیزنز ایڈوائز برمنگھم کو کال کریں — 0808 278 7990، مشورہ بالکل مفت ہے۔ دوسرا، اپنا یونیورسل کریڈٹ کلیم چیک کروائیں کہ کوئی حصہ چھوٹ تو نہیں رہا۔ تیسرا، وارم ہوم ڈسکاؤنٹ کے خط پر نظر رکھیں — نہ آیا ہو تو جنوری میں 0800 030 9322 پر کال کریں۔ چوتھا، کونسل کے کرائسز فنڈ کے لیے birmingham.gov.uk پر درخواست دیں۔ پانچواں، اپنے بجلی کے بل پر نام درست کروائیں تاکہ اگلے سال کی رعایت سے محروم نہ ہوں۔

اور دو احتیاطیں ضرور یاد رکھیں: کبھی کسی اجنبی کو فون پر اپنا بینک اکاؤنٹ نمبر یا نیشنل انشورنس نمبر نہ بتائیں — سرکاری ادارے یہ معلومات اس طرح نہیں مانگتے، اور دھوکے باز اسی بہانے لوٹتے ہیں۔ دوسرا، یاد رکھیں کہ ہماری یہ ویب سائٹ کوئی ذاتی ڈیٹا نہیں لیتی؛ اصل درخواستیں صرف GOV.UK یا birmingham.gov.uk پر ہی دیں۔

برمنگھم میں مفت مدد کے مزید پتے

سٹیزنز ایڈوائز برمنگھم کے علاوہ دی پراجیکٹ برمنگھم بھی بینفٹ، قرض اور رہائش کے مفت مشورے دیتا ہے: 0121 453 0606۔ کونسل کا ہیلپ اِن برم معلوماتی کتابچہ 11 زبانوں میں دستیاب ہے — اپنی زبان میں سمجھنا آپ کا حق ہے۔ برمنگھم وولنٹری سروس کونسل شہر بھر کی چیریٹیز کے ذریعے بھی مدد پہنچاتی ہے۔

اگر آپ کے گھر میں کوئی معذور فرد ہے تو ڈس ایبلٹی ریسورس سینٹر مفت مشورہ اور وکالت کی سہولت دیتا ہے۔ اور اگر قرض کا بوجھ بڑھ رہا ہو تو نیشنل ڈیبٹ لائن (0808 808 4000) یا سٹیپ چینج (0800 138 1111) سے بات کریں — یہ تمام خدمات مفت اور خفیہ ہیں۔ سردیاں ہر سال آتی ہیں، لیکن تیاری کے ساتھ ان کا سامنا بہت آسان ہو جاتا ہے۔