سیالکوٹ کے ایک چھوٹے سے گھر میں ہر مہینے ایک خاص دن ہوتا ہے — جس دن ریاض سے عمران کی بھیجی ہوئی رقم بینک اکاؤنٹ میں آتی ہے۔ عمران تین سال سے سعودی عرب میں محنت مزدوری کرتا ہے، اور اس کی کمائی اس کے والدین اور چھوٹے بھائی کا سہارا ہے۔ پھر ایک دن ٹی وی پر خبر چلی: حکومت نے پاسبان ریمٹنس انعامی اسکیم کا اعلان کیا ہے — سالانہ 16 ارب روپے کے انعامات، اور پہلا انعام 10 کروڑ روپے!

عمران کے والد حیران تھے: کیا ہمیں بھی انعام مل سکتا ہے؟ درخواست کہاں دینی ہے؟ جواب نے انہیں حیران کر دیا — کوئی درخواست دینی ہی نہیں! اہلیت مکمل طور پر خودکار ہے۔ اس گائیڈ میں ہم بتائیں گے کہ یہ اسکیم کیسے کام کرتی ہے، آپ کی انٹریز کیسے بنتی ہیں، اور 15 جنوری 2027 کی پہلی قرعہ اندازی میں آپ کیسے شامل ہو سکتے ہیں۔ یہ ایک آزاد رہنمائی ہے — حتمی شرائط کے لیے اسٹیٹ بینک سے رابطہ کریں۔

اسکیم کیا ہے؟ اعلان کے حقائق

پاسبان ریمٹنس انعامی اسکیم کا اعلان 25 ستمبر 2026 کو ہوا۔ اس کا مقصد ان خاندانوں کی حوصلہ افزائی ہے جو بیرون ملک مقیم اپنے پیاروں کی بھیجی ہوئی رقم بینکنگ چینل کے ذریعے وصول کرتے ہیں — یعنی وہ خاندان جو پہلے ہی قانونی راستہ استعمال کر رہے ہیں، اب انعام کے بھی حقدار بن سکتے ہیں۔

ہر سہ ماہی — یعنی ہر تین ماہ بعد — 2,521 انعامات دیے جائیں گے، جن میں 10 کروڑ روپے کا پہلا انعام بھی شامل ہے۔ سال بھر میں یہ انعامات 16 ارب روپے تک پہنچتے ہیں۔ پہلی قرعہ اندازی 15 جنوری 2027 کو ہوگی، اور اس کے لیے کوالیفائنگ مدت یکم اکتوبر 2026 سے شروع ہو چکی ہے۔

اہلیت: کوئی فارم نہیں، کوئی لائن نہیں

یہ اسکیم کی سب سے خوبصورت بات ہے: اہلیت مکمل طور پر خودکار ہے۔ اگر آپ کے خاندان کو لگاتار 3 ماہ تک ہر ماہ کم از کم 100 امریکی ڈالر بینک اکاؤنٹ میں موصول ہوں تو آپ قرعہ اندازی میں شامل ہیں۔ کوئی درخواست، کوئی فارم، دفتر کے چکر — کچھ بھی نہیں۔

ایک شرط سب سے اہم ہے: رقم بینک اکاؤنٹ کے ذریعے آنی چاہیے — یعنی بینکنگ چینل سے۔ غیر رسمی ذرائع سے آنے والی رقم شمار نہیں ہوگی۔ عمران کے والد نے یہ سن کر فوراً اپنے بیٹے کو فون کیا: رقم ہمیشہ بینک کے ذریعے بھیجو! یہ ایک جملہ ان کے خاندان کو قرعہ اندازی میں شامل کر گیا۔

عمران کے والد کو ایک اور بات بھی معلوم ہوئی: رقم ہر ماہ باقاعدگی سے آنی چاہیے۔ اگر ایک مہینے رقم نہ آئے تو لگاتار 3 ماہ کی شرط ٹوٹ سکتی ہے۔ اس لیے انہوں نے عمران سے کہا کہ رقم ہر ماہ وقت پر بھیجے — یہ عادت نہ صرف قرعہ اندازی کے لیے ضروری ہے بلکہ گھر کے بجٹ کے لیے بھی بہتر ہے۔

انٹریز کیسے بنتی ہیں؟ کیلکولیٹر استعمال کریں

ہر 100 ڈالر پر آپ کو قرعہ اندازی کی ایک انٹری ملتی ہے۔ یعنی جتنی زیادہ رقم بینک کے ذریعے آئے گی، اتنی زیادہ انٹریز بنیں گی — اور جیتنے کے امکانات بھی اتنے ہی بڑھ جائیں گے۔

عمران کے والد نے ہمارا انٹری کیلکولیٹر استعمال کیا: انہوں نے تین ماہ کی موصولہ رقم لکھی اور فوراً معلوم کر لیا کہ وہ اہل ہیں اور ان کی کتنی انٹریز بنیں گی۔ یہ کیلکولیٹر آپ کے اپنے موبائل میں چلتا ہے — ہم آپ کا کوئی ڈیٹا نہیں لیتے، نہ اکاؤنٹ نمبر مانگتے ہیں، نہ رقم کی تفصیل کہیں بھیجی جاتی ہے۔

ایک مثال سے بات اور واضح ہو جائے گی: اگر آپ کے خاندان کو ہر ماہ 500 ڈالر موصول ہوتے ہیں تو ہر ماہ 5 انٹریز بنیں گی، اور تین ماہ میں کل 15 انٹریز۔ جتنی زیادہ رقم بینکنگ چینل سے آئے گی، اتنے زیادہ مواقع — یہی اس اسکیم کی سادہ سی ریاضی ہے۔

فریب سے ہوشیار رہیں

جہاں 10 کروڑ کے انعام کی بات ہو، وہاں دھوکے باز بھی آتے ہیں۔ یاد رکھیں: اس اسکیم میں کوئی درخواست نہیں، کوئی فیس نہیں، کوئی رجسٹریشن چارج نہیں۔ اگر کوئی آپ سے انعام کے نام پر پیسے مانگے یا کہے کہ آپ کا انعام نکلا ہے، فیس بھیجیں تو وہ سو فیصد جھوٹ ہے۔

اصلی معلومات صرف اسٹیٹ بینک (sbp.org.pk) سے حاصل کریں۔ اور ہمارا اصول یاد رکھیں: ہمارے ٹولز کبھی آپ کا ذاتی ڈیٹا نہیں مانگتے۔ جو مانگے، وہ سرکاری نہیں۔