ملتان کے راشد محمود کی چھوٹی سی دکان ہے، اور گھر میں بجلی کا بل ہر مہینے اس کی سب سے بڑی فکر ہوتا ہے۔ جب اس نے سنا کہ 200 یونٹ تک بجلی پر ملنے والی عام سبسڈی یکم جنوری 2027 سے ختم ہو رہی ہے تو اس کے ہاتھ پاؤں پھول گئے — اب بل کتنا آئے گا؟ یہ سوال آج ہزاروں گھرانوں کے ذہن میں ہے، اور اس گائیڈ میں ہم راشد کی کہانی کے ساتھ اس کا جواب دیں گے۔
اصل خبر یہ ہے: حکومت نے اعلان کیا ہے کہ عام سبسڈی ختم کر کے صرف BISP میں رجسٹرڈ کم آمدنی والے گھرانوں کو ٹارگٹڈ رعایت دی جائے گی۔ یعنی رعایت مکمل ختم نہیں ہو رہی — بلکہ صرف مستحقین تک محدود ہو رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آپ مستحقین کی فہرست میں ہیں یا نہیں؟ یہ ایک آزاد رہنمائی ہے، سرکاری ویب سائٹ نہیں — حتمی معلومات کے لیے پاور ڈویژن یا BISP سے رابطہ کریں۔
کیا بدل رہا ہے؟ سیدھی بات
اب تک 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے عام صارفین کو سبسڈی ملتی تھی، چاہے ان کی آمدنی کچھ بھی ہو۔ یکم جنوری 2027 سے یہ عام رعایت ختم ہو جائے گی۔ اس کے بجائے حکومت ٹارگٹڈ رعایت دے گی — یعنی صرف ان گھرانوں کو جو BISP کے ریکارڈ میں کم آمدنی والے کے طور پر رجسٹرڈ ہیں۔
نئی سماجی-اقتصادی رجسٹری نومبر 2026 تک مکمل ہونا ہے، جو BISP ریکارڈ سے منسلک ہوگی۔ آسان الفاظ میں: اگر آپ کا بجلی کا بل BISP سے لنک نہیں ہے تو جنوری کے بعد آپ کو پوری قیمت ادا کرنی پڑ سکتی ہے۔ اس لیے ابھی سے تیاری کرنا دانشمندی ہے۔
راشد کے ایک پڑوسی نے اسے ڈرایا کہ جنوری کے بعد بل دگنا ہو جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ حتمی نرخوں کا اعلان حکومت کرے گی، اور ٹارگٹڈ رعایت کا ڈھانچہ ابھی بن رہا ہے۔ اس لیے افواہوں پر کان دھرنے کے بجائے صرف سرکاری اعلانات پر توجہ دیں — پاور ڈویژن کی ویب سائٹ اور BISP کے آفیشل چینلز ہی قابل اعتماد ذرائع ہیں۔
راشد نے کیا کیا؟ تین عملی قدم
راشد نے سب سے پہلے ہمارا سبسڈی چیکر استعمال کیا — صرف چند سوالوں کے جواب دے کر اسے معلوم ہو گیا کہ جنوری 2027 کے بعد اس کی صورتحال کیا ہوگی۔ چیکر نے اسے واضح سمت دی: BISP رجسٹریشن کی تصدیق کرواؤ۔
دوسرا قدم: اس نے 8171 پر SMS کیا اور قریبی BISP تحصیل دفتر جا کر اپنی رجسٹریشن کی تصدیق کروائی۔ تیسرا اور سب سے اہم قدم: اس نے اپنا بجلی کا بل ریفرنس BISP ریکارڈ سے لنک کروایا — کیونکہ رعایت اسی بل پر لگے گی جو رجسٹرڈ ہوگا۔
آپ بھی یہی تین قدم اٹھائیں: چیکر سے صورتحال سمجھیں، BISP میں رجسٹر ہوں یا اپنی رجسٹریشن کی تصدیق کروائیں، اور بجلی کا بل لنک کروائیں۔ یہ کام جتنی جلدی ہو سکے کر لیں — نومبر 2026 میں رجسٹری مکمل ہونے سے پہلے۔
راشد نے ایک اور ہوشیاری بھی دکھائی: اس نے اپنے بجلی کے میٹر کا ریفرنس نمبر اور شناختی کارڈ کی کاپی ایک فائل میں رکھ لی، تاکہ دفتر جانے پر کوئی کاغذ نہ بھولے۔ چھوٹی سی تیاری بڑی پریشانی سے بچاتی ہے — خاص طور پر جب ہزاروں لوگ ایک ہی وقت میں دفاتر کا رخ کریں گے۔
عام غلط فہمیاں
غلط فہمی نمبر ایک: سب کی سبسڈی ختم ہو رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عام سبسڈی ختم ہو رہی ہے، لیکن BISP میں رجسٹرڈ گھرانوں کو ٹارگٹڈ رعایت ملتی رہے گی۔ گھبرانے کے بجائے اپنی اہلیت چیک کریں۔
غلط فہمی نمبر دو: رجسٹریشن بہت مشکل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ 8171 پر SMS یا قریبی تحصیل دفتر جانا کافی ہے — عمل مفت ہے اور کسی ایجنٹ کی ضرورت نہیں۔ جو شخص رجسٹریشن کے نام پر پیسے مانگے، وہ دھوکے باز ہے۔
غلط فہمی نمبر تین: ہمارا ٹول میرا ڈیٹا لے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا چیکر آپ کے اپنے موبائل میں چلتا ہے — ہم آپ کا کوئی ڈیٹا نہیں لیتے۔ اگر کوئی سبسڈی بچانے کے نام پر آپ سے پیسے یا ذاتی معلومات مانگے تو وہ فریب ہے۔
ایک اور غلط فہمی یہ ہے کہ صرف دیہی علاقوں کے لوگ BISP میں آتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ شہری کم آمدنی والے گھرانے بھی اہل ہو سکتے ہیں — اہلیت کا فیصلہ سماجی-اقتصادی رجسٹری کے معیار پر ہوتا ہے، نہ کہ شہر یا گاؤں پر۔ اس لیے خود کو پہلے سے نااہل نہ سمجھیں، چیک ضرور کروائیں۔