پنجاب ای بائیک اسکیم کا ریکارڈ: 13 لاکھ رجسٹریشن، ایک لاکھ ای بائیکس قرعہ اندازی سے

پنجاب ای بائیک اسکیم کا ریکارڈ: 13 لاکھ رجسٹریشن، ایک لاکھ ای بائیکس قرعہ اندازی سے

پنجاب حکومت کی ای بائیک اسکیم نے مقبولیت کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ سرکاری اعلان کے مطابق اس اسکیم کے لیے 13 لاکھ سے زائد نوجوانوں نے رجسٹریشن کرائی — جو کسی بھی سرکاری اسکیم کے لیے پہلی بار اتنی بڑی تعداد ہے۔

رجسٹریشن کے بعد 6 لاکھ 7 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں۔ ان میں سے ایک لاکھ خوش نصیب درخواست گزاروں کو قرعہ اندازی کے ذریعے ای بائیکس دی جائیں گی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ اسکیم کا عمل جلد از جلد مکمل کیا جائے۔

اسکیم کی سب سے پرکشش بات اس کی آسان ماہانہ قسط ہے: صرف 3,000 روپے ماہانہ۔ اور اس سے بھی بہتر یہ کہ ای بائیکس کی فراہمی پر آنے والا پورا سودی بوجھ پنجاب حکومت خود برداشت کرے گی — یعنی نوجوانوں کو سود کے اضافی بوجھ کے بغیر سواری ملے گی۔

طالبات کے لیے ایک خاص سہولت بھی رکھی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر اسکیم میں کامیاب ہونے والی خواتین درخواست گزاروں کو مفت ڈرائیونگ ٹریننگ بھی دی جائے گی۔ وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ نوجوانوں — خاص طور پر طالبات — کو سستی سواری فراہم کرنا اور تعلیم تک رسائی آسان بنانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کے الفاظ میں، پنجاب کا ہر بیٹا اور بیٹی ان کے لیے خاص ہے۔

یہ اسکیم صرف سواری نہیں دے رہی — یہ ماہانہ اخراجات میں بچت بھی ہے۔ پٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے دور میں الیکٹرک بائیک طالب علم کے لیے روزانہ کالج یا یونیورسٹی جانے کا سستا ذریعہ ہے، اور لڑکیوں کے لیے محفوظ اور خودمختار سفر کا ذریعہ بھی۔

اب سب کی نظریں قرعہ اندازی پر ہیں۔ درخواستیں جمع ہو چکی ہیں، اور ایک لاکھ ناموں کا انتخاب قرعہ اندازی سے ہوگا۔ اگر آپ نے درخواست دی تھی تو سرکاری اعلانات پر نظر رکھیں — نتائج کا اعلان ہوتے ہی ہم یہاں اپ ڈیٹ کریں گے۔ اور اگر آپ اگلے مرحلے کا انتظار کر رہے ہیں تو ہماری ای بائیک کیلکولیٹر سے ابھی اندازہ لگائیں کہ ماہانہ قسط آپ کے بجٹ میں کیسی بیٹھے گی۔

یاد رکھیں: یہ ایک آزاد معلوماتی صفحہ ہے، سرکاری ویب سائٹ نہیں۔ قرعہ اندازی کے نتائج اور حتمی معلومات ہمیشہ سرکاری ذرائع سے ہی حاصل کریں، اور کسی کو "نام نکلوانے" کے عوض پیسے ہرگز نہ دیں۔